Welcome

Welcome to my blog. I would write on Pakistani issues and some other areas that have appeared in media, how the international media is reviewing Pakistan. Islamic information, breaking news, articles, columns of leading Pakistani columnists, blogging tips, health tips, Jobs, education information, IT information, latest software will also be included in this blog. Your comments and emails about any post will also be respected.

Showing posts with label Urdu Articales. Show all posts
Showing posts with label Urdu Articales. Show all posts

23 February, 2010


Load-shedding of Electricity has become Regular Phenomenon in Pakistan

پاکستان میں دسمبر کے آخری اور جنوری کے شروع کے ہفتے پچھلے تین سال سے لوڈ شیڈنگ کے عروج کے دن ہوتے ہیں۔ دن میں بیس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجوہات کو پچھلے تین سالوں سے حل نہیں کیا جاسکا بلکہ یہ مسئلہ شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔
سردیوں‌میں‌ہمارےپاس ایندھن کی کمی ہوتی ہے۔ ہماری گیس گھروں میں ہی اتنی لگ جاتی ہے کہ فیکٹریاں بند ہوجاتی ہیں۔ سی این جی سٹیشنز کو گیس کی دو دن فی ہفتہ بندش اسی وجہ سے ہے۔ پاور سٹیشنز کو بھی گیس نہیں ملتی اور کام پورا ہوجاتا ہے۔ پچھلے چار پانچ سالوں سے ہمارے ڈیم بھر ہی نہیں‌ رہے، جیسے ہی سرما میں ڈیم بند کیے جاتے ہیں سارا پاور سسٹم ختم ہوجاتا ہے۔ پیچھے ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی ہوجاتی ہے۔ یاد رہے سردیوں میں چار ہزار میگا واٹ کی کمی گرمیوں کی چار ہزار میگا واٹس کی کمی سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پیداوار پندرہ ہزار کے اریب قریب اور کھپت بیس ہزار کے اریب قریب ہوتی ہے۔ سردیوں میں کھپت دس ہزار میگاواٹ سے بہت کم ہوتی ہے اور میں سے چار ہزار میگا واٹ کی کمی کا مطلب ہے فیصد میں ستر سے نوے فیصد تک بجلی کی کمی۔ پچھلے تین سال سے دسمبر کے آخری دو ہفتے اور جنوری کے پہلے دو ایک ہفتے اتنہائی بدترین لوڈ شیڈنگ کے ہوتے ہیں۔ اس سال سے تو گیس بھی کم آنے لگی ہے۔ بجلی بند ہوتے ہی گیس بھی کم ہوجاتی ہے، چولہا جلائیں تو گیس بلب نہیں جلتا وہ جلائیں‌ تو چولہے پر روٹی بھی نہیں پکتی۔ ہماری گیس زیادہ سے زیادہ اگلے آٹھ سال تک کے لیے ہے وہ بھی تب جب نئے کنکشن نہ دئیے جائیں اور سی این جی سٹیشن نہ لگائے جائیں۔ گیس کہاں سے آئے گی کا خیال کیے بغیر گاڑیوں کو بلامنصوبہ بندی سی این جی پر کیا گیا اور آج گھروں  میں روٹی پکانے کے لیے بھی گیس نہیں‌ ہوتی سردیوں‌ میں۔ قصبوں‌ اور دیہوں میں سیاسی بنیادوں پر گیس کنکشن دئیے گئے اور گنجان آباد شہروں‌ کے رہنے والے جہاں‌ کوئی اور ایندھن بھی دستیاب نہیں آئے دن گیس کی بندش کے خلاف مظاہرے کر رہے ہوتے ہیں۔ عجیب سسٹم ہے ہمارا۔ ڈنگ ٹپاؤ۔ کھاتے جاؤ۔ جب ختم ہوگا دیکھی جائے گی۔
 ہمارے پاس ابھی تک متبادل ذرائع توانائی سے بجلی کے حصول کے لیے کوئی جامع منصوبہ، پالیسی یا ادارہ موجود نہیں ہے۔ متبادل توانائی بورڈ کے ملتے جلتے نام سے ایک حکومتی ادارہ مشرف دور میں کچھ سرگرم رہا ہے۔ ان لوگوں نے ٹھٹھہ بدین وغیرہ میں غیرملکی کمپنیوں کو پوَن چکیاں لگانے کے لیے زمین بھی الاٹ کی۔ لیکن ابھی تک ایک آدھ پوَن چکی ہی آپریشنل ہوسکی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی بجلی بھی دس روپے سے زیادہ فی یونٹ لاگت کی حامل ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اسلام آباد کے قریب ایک ماڈل دیہہ جو شمسی توانائی پر چلتا ہے پچھلے کئی سال سے موجود ہے، پنجاب میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر کرنے کی بڑھک پچھلے دنوں خادم اعلی کی جانب سے سنائی دی۔ اب اس پر عمل کتنا ہوگا رب جانے اور خادم اعلی جانیں۔
ہمارے پانی کے ذخائر تیزی سے انحطاط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بھارت ہمارے دریاؤں پر پچھلے پانچ سال میں کئی بڑے اور بیسیوں چھوٹے ڈیم بنا چکا ہے جس کی وجہ سے آج راوی گندہ نالا ہے اور اس وقت چلتا ہے جب سیلاب آنا ہو۔ جہلم آدھا خشک ہوچکا ہے اور ستلج کو تو سندھ طاس معاہدہ کھا گیا۔ بھارت کے وولر بیراج اور بگلیہار ڈیم پر عالمی عدالت انصاف میں جانے کے لیے نہ مشرف دور میں کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ موجودہ حکومت پچھلے ڈیڑھ سال سے کچھ کرسکی ہے۔ جماعت علی شاہ، ہمارا نام نہاد واٹر کمشنر پتا نہیں کیا کرتا پھر رہا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے اس عہدے پر موجود یہ شخص کن کا ایجنٹ ہے اور اسے پانی کی کمی نظر کیوں نہیں آتی۔ ہمارا بارشوں کا نظام تیزی سے نارمل سے ہٹ رہا ہے۔ بلوچستان جیسے علاقوں میں غیرموسمی بارشوں سے قریبًا ہرسال سیلاب آجاتا ہے اور  ماضی کے بارانی علاقے اب آسمان کو بادلوں سے عاری دیکھ دیکھ کر ترس جاتے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے تحت پانی سٹور کرنے کے لیے ہماری  پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی یا جدت نہیں لائی گئی۔صرف ایک دیامر بھاشا ڈیم جس پر کام اگلے دس سال میں مکمل ہوگا اسے شروع کیا گیا ہے۔
ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہماری کوئی پالیسی نہیں۔ اور ہماری حکومت یہ ہے کہ ہماری کوئی حکومت نہیں۔ اور ہماری قوم یہ ہے کہ یہ کوئی قوم نہیں ہجوم ہے۔

21 February, 2010


Dr. Afia Siddiqui Aik Aur Muhammad Bin Qasim Ki Muntazir





15 February, 2010


اوباما کی مذہبی مشیر کے پیغامات


امن ہو یا جنگ امریکا ہمیشہ عالم اسلام اور مسلمانوں سے تعلقات مستحکم کرنے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ اوباما نے قاہرہ کانفرنس میں ہر سطح پر روابط بڑھانے اور بات چیت کرنے کے عزم کا اظہار اسی پالیسی کے تحت کیا تھا۔ امریکا اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہرگز نہیں ہے۔“ یہ الفاظ امریکی صدر مسٹر بارک اوباما کی مشیر برائے مذہبی امور ”فرخ انور پنڈت“ کے ہیں جو انہوں نے دورہٴ پاکستان کے دوران کہے۔ کراچی میں جامعہ بنوریہ اور جامعہ کلفٹن میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا دینی اور دنیاوی تعلیم میں کوئی تضاد نہیں۔ دینی مدارس اسلام اور رواداری کی تعلیم دیتے ہیں۔ فرخ انور پنڈت نے مزید کہا امریکا اسلام اور مسلمان ممالک سے اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہرگز اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اس حوالے سے امریکی حکومت مسلمان علما کو اعتماد میں لے کر باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ مغرب اور مسلم اُمہ کے درمیان ایک سازش کے تحت دوریاں پیدا کی جارہی ہیں۔ ہم کوشش کررہے ہیں اس خلیج اور دوری کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے امریکی صدر اوباما کی پالیسیوں اور موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا پہلے امریکی حکومت صرف بحران کی صورت میں اور برے وقت میں حکومت کی سطح پر رابطہ یا مذاکرات کرتی تھی، امن کی حالت میں بات چیت کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ امریکی صدر کی پالیسی ہے امن ہو یا جنگ، حکومت اور عوامی ہر سطح پر عالم اسلام کے ساتھ باہمی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیے۔ نوجوان نسل پر خصوصی توجہ دینا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر مسلم علماء سے براہِ راست بات چیت کے خواہاں ہیں۔“ قارئین! امریکا ایک طرف تو مذکرات اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف مسلم ممالک پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ،ان کے لیے امتیازی قوانین بنائے جارہے ہیں۔ یکے بعد دیگرے شب خون مارا جارہا ہے۔ دنیا میں امن وامان کا ڈھنڈورا پیٹنے والے کا چہرہ کس قدر خون آلود ہے؟ سب جانتے ہیں۔ امریکا 1890ء سے 2010ء تک 120 سالوں میں اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر 75 کے قریب آزاد ممالک پر فوج کشی کرچکا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اب تک 28 ممالک پر براہِ راست بمباری کرچکا ہے۔ اس بمباری میں اس نے جدید ترین اسلحہ اور بم نہایت ہی بے دردی سے استعمال کیے، جس میں لاکھوں افراد مارے گئے۔ 1989ء میں سوویت یونین کی شکست و ریخت کے تو وہ دیر ہوگیا۔ ”نیو ورڈ آڈر“ پر عمل کرتے ہوئے نوے کی دہائی میں خلیج جنگ چھیڑکر اپنے بھیانک منصوبوں کی تکمیل کی۔ 1998ء سوڈان پر حملہ کیا۔ 1998ء میں کلنٹن کے حکم پر امریکا نے افغانستان پر میزائلوں سے حملے کیے۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر پہلے ہلکی بمباری کی۔ آخر میں افغانستان پر ڈیزی کٹر جیسے انتہائی مہلک بم پھینکے۔ بی-52 نامی انتہائی جدید اور سبک رفتار طیارے استعمال کیے گئے۔ 2003ء میں عراق پر تاریخ کا بدترین حملہ کیا ۔ ان حملوں میں ایک اندازے کے مطابق بارہ لاکھ عراقی،6لاکھ افغان سمیت بائیس لاکھ افراد تک ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ اس امریکا کے مکروہ چہرے کی جھلک ہے جو اس وقت امن کا چمپئن بنا بیٹھا ہے۔ جس کے پیٹ میں آزادی وحریت کے لیے لڑنے والے عراقیوں، افغانوں، کشمیریوں، فلسطینیوں، یمنیوں اور دیگر مجاہدین اسلام کی کوششوں سے مروڑ اُٹھتے ہوں۔ امریکا کو اسرائیلی، بھارتی اور خود اپنے ملک کے دہشت گرد نظر نہیں آتے۔ استعماری عزائم رکھنے والوں کو صرف پاکستان کا ایٹمی پروگرام جو اپنے دفاع کے لیے ہے، بری طرح کھٹک رہا ہے۔ ایران کا ایٹمی پروگرام جو ابھی تک بنا ہی نہیں ہے، خوفناک دکھائی دیتا ہے لیکن صہیونیوں کے پاس 260 سے زائد تیار پوزیشن میں ایٹم بم نظر نہیں آتے۔ سب جانتے ہیں اسرائیلی استعماری عزائم رکھتا ہے۔ وہ اپنی سرحدیں دریائے نیل سے دجلہ وفرات تک بتاتا ہے اور گریٹر اسرائیل کی طرف قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے۔ یہودوہنود اور دیگر عالمی طاقتوں نے مل کر اسلام، مسلمانوں اور عالم اسلام کو مشق ستم بنارکھا ہے۔ حالیہ دنوں جو توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع ہوئے ہیں، اس کے پیچھے بھی یہودی لابی ہی کام کررہی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے دنیا بھر میں دہشت گردوں کی واردات کہیں بھی ہو، کوئی بھی کرے اس کے تانے بانے مسلمانوں اور مسلم ممالک کے ساتھ ہی ملائے جاتے ہیں۔ سب جانتے ہیں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے۔ اسلام کو دہشت گردی کی تعلیم دینے والا مذہب اور قرآن کو دہشت گردی کا منبع قرار دینے کی مذموم کوششیں عروج پر ہیں۔ عالمی طاقتیں ایک طرف تو بین المذاہب رواداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں تو دوسری طرف اسلام کی روشنی کے مینار دینی مدارس، علما وصلحا اور دین دار طبقے کے خلاف پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔ مغربی میڈیا میں ان کی تضحیک اور کردار کشی کی جارہی ہے۔ دینی اداروں کو چندہ دینے والوں کی انکوائریاں ہورہی ہیں۔ ان پر الزامات لگائے جارہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کررہے ہیں۔ ناانصافی تو ملاحظہ کیجیے اگر کوئی شخص عیسائیت کے فروغ کے لیے خطیر رقم دیتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس کے کارنامے کو سراہا جاتا ہے۔ کوئی یہودیت کے فروغ اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھولتا ہے تو عظیم شخص قرار پاتا ہے لیکن اگر کوئی مسلمان کسی مذہبی فلاحی ادارے، دینی مدارس اور اسلام کی ترویج وتبلیغ کے لیے دوچار لاکھ ہی دیدے تو اس پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کرکے گوانتا ناموبے جیسے عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے سابق امریکی صدر بش نے 2003ء میں امریکا کے صدر بش نے دنیا بھر میں عیسائیت کی ترویج کے لیے مشنری تنظیموں کو فنڈ فراہم کرنے کے لیے وہائٹ ہاؤس میں ”Faith-Based and Community Initiatives“ نامی ڈپارٹمنٹ قائم کیا تھا۔ اس کے ڈائریکٹر ”جم ٹووی“ کو امریکی سوسائٹی کو کٹر عیسائی مذہبی معاشرے میں تبدیل کرنے کا ہدف سونپا گیا تھا۔ انہوں نے 10 ہزار 5 سو 18 عیسائی تنظیموں کو ایک ارب 70 کروڑ ڈالرز فراہم کیے تھے۔ یہ کیسا فلسفہ ہے اگر ایک کام صدر بش عیسائیت کی ترویج کے لیے کرے تو اچھا ہے لیکن اگر کوئی صاحبِ ثروت مسلمان، اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے کرے یا کسی دینی مدرسے کو چندہ بھی دے تو اس کی انکوائریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کا رشتہ ناتہ مبینہ دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ کیسی ناانصافی ہے اگر کوئی ”ہولوکاسٹ“ پر لکھے یا بولے تو وہ قابلِ گرفت ہے لیکن اگر کوئی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی معززترین ہستیوں کے بارے میں شرانگیزی کرے تو اس کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ 1988ء میں ”وائی کنگ پیلی کیشنز“ کے یہودی ادارے نے ”شیطانی آیات“ کے نام سے بدنامِ زمانہ کتاب لکھی توکچھ نہ ہو لیکن جب ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے دنیا کی صرف 0.23 فیصد آبادی یہودیوں کے بارے میں ذرا الفاظ کہے تو ان کو یورپ و امریکا کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگیں اور ان کے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ اگر امریکا اور برطانیہ کے اہم لوگ اور شہزادے عراق اور افغانستان کے محاذوں پر مذہبی فریضہ سمجھ کر جنگ میں حصہ لیں تو مستحسن اور لائق تعریف، ان کی کارکردگی مثالی اور شاندار لیکن اگر کوئی مسلمان شہزادہ اس میں شریک ہو تو اسے عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اسے شدت پسند اور دہشت گرد جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ فرق کیوں؟ جنگ تو جنگ ہے۔ اس میں شریک اسامہ دہشت گرد ہے تو افغانستان میں جارح افواج کے ہمراہ آنے والے ہیری کو بھی مردِ حر نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگر یہ جنگ صلیبی اور مذہبی ہے تو پھر اس میں حصہ لینے والے خواہ وہ کوئی بھی ہو ان پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی طاقتیں ایک طرف تو لندن میں جمع ہوکر اعلان کرتی ہیں کہ جنگ بہت ہوچکی اب طالبان سے مذاکرات ہونے چاہیے، مذاکرات کے لیے طالبان کو پیغامات بھی بھجوادیے جاتے ہیں لیکن پھر اگلے ہی ہفتے طالبان کے مضبوط ٹھکانے ”ہلمند “پر تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن شروع کردیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مغرب کی یہی دوغلی پالیسی ہے جو ان کے لیے نفرت اور عداوت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کا یہی دوہرا معیار ہے جوان کے رواداری کے دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔ ”فرح انور پنڈت“کو چاہیے وہ امریکی حکمرانوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کریں جب تک اسلام، مسلمانوں اور عالم اسلام کے ساتھ یہ امتیازی سلوک اور ناانصافیاں ختم نہیں ہوجاتیں اس وقت تک دنیا یونہی دہکتا انگارہ بنی رہے گی۔ رواداری کا ڈھنڈورا تو پیٹا جاتا رہے گا لیکن مغرب اور مشرق میں کشیدگی بڑھتی ہی رہے گی۔

14 February, 2010


اب تو سچ بولئے

روزانہ کی بنیاد پر خبریں چلتی ہیں، فلاں دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار کر لیا۔ سنسنی خیز انکشافات کی توقع۔ کشمیر میں ٹریننگ حاصل کی جہادی لٹریچر برآمد ہوا، آئیے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے (حفظ ماتقدم کے طور پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی) ایک صاحب نوجوان ذہین و فطین لاہور کے تعلیمی ادارے میں لیکچر دینے کیلئے بلائے گئے ناکے پر روک لئے گئے۔ پولیس نے کہا ’’تم شکل سے دہشت گرد معلوم ہوتے ہو، (مضحکہ خیز پٹیاں عوام کو بھی پڑھائی جا رہی ہیں کہ دہشت گرد ایسا ہوتا ہے) اترو اور ہمارے سوالات کے جواب دو۔ ابھی یہ صاحب پولیس گردی سے نمٹ رہے تھے کہ تعلیمی ادارے کے بھاری بھر کم ذمہ دار کا فون آ گیا کہ تم کہاں ہو۔ اب جو موبائل فون پولیس کے ہاتھ میں تھمایا گیا تو بریگیڈئر صاحب کو بات کرتے سن کر انکے چھکے چھوٹے۔ فوراً معذرتیں کیں معافیاں چاہیں ساتھ ہی سپاہی کو آواز دی کہ انکی گاڑی میں جو سامان رکھا تھا نکال لو! کیا سمجھے۔؟ اگر بریگیڈئرر صاحب کا فون نہ آتا تو اگلے دن کی خبر یہی ہوتی۔ فلاں دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار کرلیا۔ گاڑی سے خود کش جیکٹ اور اسلحہ برآمد ہوا (سامان جو گاڑی میں رکھا جا چکا تھا) سنسنی خیز انکشافات کی توقع، اب تمام متشرع حضرات گھر سے نکلنے سے پہلے کسی کرنل، بریگیڈئر کا فون نمبر ہمراہ رکھیں۔ اللہ کے ذکر سے احتراز فرمائیں کیونکہ دہشت گرد کی علامتوں میں سے ایک اسکے ہلتے ہونٹ بھی ہیں۔ نفسیاتی مریض صرف امریکہ اور امریکی فوجی نہیں بنے ہم بھی اس نامراد، مردود جنگ دہشت گردی کے ہاتھوں نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ پولیس پر شدید دباؤ ہے۔ دہشت گرد پکڑنے کا، مارنے کا، سو وہ ٹارگٹ پورا کرنے پر مجبور ہے جو مرغا پھنس جائے اس سے پہلے پشاور دھماکے کا ایک ماسٹر مائنڈ پیش فرمایا گیا تو آمنہ مسعود نے فوراً نشاندہی کر دی کہ یہ تو لاپتہ افراد میں سے ہے جو پہلے ہی ایجنسیوں کی تحویل میں تھا (وہاں بیٹھا ماسٹر مائنڈی کر رہا تھا۔؟) اسی تسلسل میں اسلام میں دہشت گرد قرار دیکر مار دئیے جانیوالا بھی ہے جو پہلے ہی تحویل میں تھا یہ نیا سلسلہ لاپتہ افراد سے چھٹکارا پانے اور دھماکے کا سراغ مل جانے کے حوالے سے سرکار کیلئے بہت کارآمد ہے لہٰذا روزانہ کی بنیاد پر یہ خبریں چل رہی ہیں۔ خبر یہ بھی ہمراہ ہے کہ مسافروں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ بیچارے معصوم شہریوں کو تو درج بالا شواہد اور ناکوں پر لگی لائنوں، ٹرینوں اڈوں پر گھورتی نگاہوں سے مارے ڈال رہے ہیں اور جنکی کڑی نگرانی کی ضرورت تھی وہ مسافر چکلالہ کے ہوائی اڈے سے محفوظ کالے شیشوں کی شاندار گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کی اڑانوں سے آ کر اسلام آباد پر قبضہ کر چکے ہیں۔ امریکی سفیر کے تصدیق شدہ اعداد و شمار، شہر بھر میں کرائے کے گھر اور سفارتخانے کی توسیع کافی نہ تھی کہ اب اسلام آباد کے گردو نواح میں مزید مراکز کا انکشاف ہوا ہے۔ اسلام آباد کا کہوٹہ ملپور، بیگوال، سملی ڈیم روڈ پر اسلحے سے بھرے یہ مراکز ہم پر پھول برسانے کی تیاری میں ہیں؟ چلئے کڑی نہ سہی صرف نگرانی ہی کر لی ہوتی۔ وہ امریکہ جو افغانستان سے نہتے مگر ایمان سے لبریز طالبان کے ہاتھوں ذلت و خواری اٹھا رہا ہے وہ ایٹمی پاکستان میں زبردست فوج، ٹینک جہاد اسلحہ (نیوکلیائی و بارودی) ہوتے ہوئے ہمیں ناکوں چنے چبوائے؟ تف ہے ہماری بزدلی، کم ہمتی اور تہی از ایمان ہونے پر! سورۃ الانفال، توبہ کا ایک گھونٹ بھی پیا ہوتا تو آج اس حال میں نہ ہوتے۔ پامیلا خاں صاحبہ نے زائچوں کے حساب سے پاکستان کے مستقبل کی پیش گوئیاں فرمائی ہیں۔ حالانکہ… ستارہ کیا مرے احوال کی خبر دے گا وہ خود فراخیٔ افلاک میں ہے خوار و زبوں ہمارے ایمان کا سادہ سا سبق ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا و آخرت دونوں کی نور و نار انسان اقوام کے اعمال میں مضمر ہے…ع عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی قوم کے مستقبل کو نہ ہاتھوں کی لکیروں نہ ستاروں کی چالوں میں تلاش کر کے ایمان گنوانے کی ضرورت ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اخبارات اور قرآن سے سورۃ سبا اور سورۃ ہود کا مطالعہ یپشین گوئیوں سے بے نیاز کرکے دو کاموں پر لگا دے گا۔ اعمال، اموال، پالیسیوں کی درستگی اور سجدہ ریزی اس ملک کو جہنم بنانے میں اسکے ایک ایک فرد کا حصہ ہے۔ سربراہان، اپوزیشن، فوج، دینی جماعتیں، سِٹّی گم شدہ کنفیوز ہونے پر ادھار کھائے بیٹھے عوام۔ مرتے مٹتے امریکہ کو صرف ایک دھکے کی ضرورت تھی (جو ہمارا ملک اجاڑنے میں سب سے بڑا فیکٹر ہے) طالبان کو بھوت بنا کر دکھانے میں جتنے بے شمار جھوٹ بولے (یاد رہے کہ جھوٹ کی بدبو سے فرشتے دور چلے جاتے ہیں۔ آج جھوٹ کے تعفن سے سے فرشتوں کا یہاں رہنا دوبھر ہے) بہتان گھڑے، امریکہ کے حکم پر اپنے ان بہترین دوستوں کو بدترین دشمن بنایا اگر ہم صرف ایک سچ بول دیتے کہ یہ جنگ دہشت گردی، امریکہ کی اسلام کیخلاف عالمی غنڈہ گردی ہے اسکا ساتھ دینا نہ ہمارا ایمان نہ ضمیر گوارا کر سکتا ہے نہ ہم اسے مسلم افغان ہمسایوں کیخلاف تعاون کر سکتے ہیں مگر ایمان اور ضمیر کیونکہ لاپتہ کی فہرست میں ہیں لہٰذا آج یہ دن ہم دیکھ رہے ہیں کہیں سے ان دونوں کو بازیاب کروا لیں تو امریکہ گرتی ہوئی دیوار ہے اور ہمارے پاس اسے گرانے کو تمام اسباب و وسائل موجود ہیں۔ آخر تڑپ تڑپ کر ہم کیوں کہتے ہیں کہ ہم نے امریکہ کی خاطر اتنی قربانیاں دیں۔ ہمیں اس کا صلہ نہ دیا گیا۔ یہ اقرارِ جرم ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہی ثبوت ہے۔ اب حکم ہو رہا ہے کہ مزید اسے شمالی وزیرستان فتح کرنے پر ملیں گے۔ ایسی پاگل قوم تاریخ میں کیسے حروف سے لکھی جائیگی جس نے اپنی آنکھیں دل گردے سبھی نکال کر دشمن کو ٹرے میں سجا کر دے دئیے۔ یہ آنکھیں وہ تھیں جنہیں جنت دوزخ دکھائی دیتی تھی اور یہ ہمیں بھی دکھانا چاہتے تھے اور ہم نے نکال کر امریکہ کو پیش کر دیں۔ وہ دل جو لاالٰہ پر دھڑکتا تھا ہم نے وزیرستان جاکر آدھا امریکہ کو پیش کر دیا ۔ اب باقی آدھے کا مطالبہ اوباما نے رکھ دیا۔ کہئے اہلِ پاکستان کیا خیال ہے؟…؎ قم باذن اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن لہٰذا اب گورکن بصد آہ، نالہ قبریں کھود رہے ہیں۔ بلیک واٹر اور را کے دھماکوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے سے کیا بہتر نہ تھا کہ ہم ان حقیقی دشمنوں کا سر توڑ کر شہادت سے سرفراز ہوتے۔ بجائے واہموں کے تعاقب میں ملک تباہ کر دینے کے۔ اْمتِ مسلمہ سے منہ موڑ کر امریکہ کی بانہوں میں باہیں ڈال کر ہم اْلفت کی جن راہوں پر چلے تھے آج یہ حرام محبت کا رشتہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔ اسکی خاطر ہم نے اپنے محبوب بھائیوں کے منہ نوچ ڈالے قبروں کے منہ کھول دئیے دہشت گرد، CIA کے ایجنٹ، نہ صرف بدترین گالی ہے بلکہ لعنت ہی کی مانند۔
نبی کے فرمان کیمطابق یہ دینے والے کے سر سے اوپر اٹھتی ہے اس شخص تک جاتی ہے اور جھوٹ پا کر واپس دینے والے پر پلٹ آتی ہے۔ واللہ یہ گالی ہمیں آخرت میں تو شدید مہنگی پڑیگی آج جیتے جی بھی ہم اسی کو بھگت رہے ہیں۔ کفر کیخلاف لڑنے کیلئے سر ہتھیلی پر لئے پھرنے والے تو CIA کے ایجنٹ ٹھہرے اور ہم امریکی جنگ میں ملک تباہ کرنے، عیش و طرب میں لتھڑے، ڈالر جیبوں میں ٹھونسے بڑے پاکباز ہوگئے؟۔ زبانیں روکئے۔ کفر کیساتھ مجبوراً جنگ بدر میں نکل کر آنیوالے کمزور مسلمانوں کا حال قرآن میں ثبت ہے۔ کیا ہم اس کے منتظر ہیں کہ امریکہ کے آگے بندھے محبوب غلاموں کی طرح صلیبی لشکر کا حصہ بنیں اور انجام یہ ہو۔ خدانخواستہ۔ ’جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (النسائ97-) سادگی کا عالم دیکھئے کہ ہم کہہ رہے ہیں را قبائلی علاقے کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتا تھا کامیاب نہ ہوسکا۔ ’را‘ کو تو ہم کب کا اسکے کاموں سے فارغ کر کے اپنی ’را‘ خود کھول چکے ہیں۔ اپنے Ivory Towers سے نکل کر ذرا قبائل سے تو پوچھ کر دیکھئے۔ چلئے اپنے دل ہی سے پوچھ لیجئے۔ جس ملک میں آپکے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے آپ کڑکتی سردی میں خیمے میں ننھے بچے لئے بیٹھے ہوں۔ آپکے بچوں کا سکول (مدرسہ) آپ کا کلب (مسجد) جو آپکی دلچسپیوں کا مرکز تھا ڈھا دیا جائے۔ آپکے جوان بیٹے ناکردہ گناہ پر جیل میں ٹھونس دئیے جائیں۔ یہی حال آپکے سب بہن بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں پر مسلط کر دیا جائے تو آپ کیا اس ملک کی محبت کے راگ الاپیں گیں؟ نکل آئیے اپنے عشرت کدوں اور خوابگاہوں سے اور بابائے قوم کی محنتوں بوڑھی ہڈیوں کا لٹتا ثمر دیکھئے جس سے محبت کے آپ گن گاتے ہیں۔ شہیدوں کا خون، لٹتی عصمتوں کی قربانیوںکو کالے پانیوں (بلیک واٹر) کی بھینٹ چڑھتے دیکھئے۔ طالبان دشمنی (اسلام دشمنی) اور امریکہ دوستی نے پاکستان تباہ کر دیا۔ اب تو سچ بولیئے۔